اننت ناگ میں 20لاکھ روپے مالیت کی مچھلیاں تلف ہونے کے بعد محکمہ فشریز حرکت میں،امتناعی سرکیولر جاری
سرینگر//26ستمبر/ ٹی ای این / ضلع اننت ناگ میں اخروٹ کے چھلکے چھیلنے کی مشینیں دیاﺅں اور ندی نالوں کے آس پاس نصب کرنے اور چھلکے چھیلنے کے عمل پر فوری طور روک لگاتے ہوئے محکمہ ماہی پروری اننت ناگ نے اپنے عملے کو خاطی افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دی جاری کی ہے ۔ٹی ای این کے پاس دستیاب ایک سرکیولر زیر نمبرDDF/ANG/2023-24/3068-76بتاریخ 26 ستمبر2023کے مطابق محکمہ فشریز نے یہ ہدایت حال ہی میں دلشیر وندن علاقے میں اخروٹ کے چھلکوں کے رس سے پانی میں تقریبا20لاکھ روپے مالیت کی مچھلیاں تلف ہونے کے بعد جاری کی ہے ۔سرکیولر میں ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز اننت ناگ نے کہاہے کہ ”یہ بات ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ محکمہ فشریزکی نوٹس میں آئی ہے کہ ضلع بھر کے مختلف مقامات پر بڑی تعداد میں خودکار اخروٹ چھیلنے والی مشینیں بنیادی طور پر پانی کے ذرائع کے قریب یا اس کے آس پاس نصب کی گئی ہیں اور سبز رنگ کو فوری طور پر ٹھکانے لگانے کا کوئی مناسب انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ اخروٹ کے چھلکوں کے عرق جس میں کچھ نقصان دہ کیمیکلز ہوتے ہیں جنہیں اگر پانی کے ساتھ ملایا جائے تو نہ صرف آلودگی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ آبی حیات پر بھی اس کے شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مشینوں کے آپریٹرز نے سبز چھلکوں کے عرق کو ٹھکانے لگانے کے لیے نہ تو مناسب طریقہ کار پر عمل کیا اور نہ ہی متعلقہ محکموں سے این او سی طلب کیا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں دل شیر وندن علاقے میں ایک المناک واقعہ میں 20 لاکھ مالیت کی ٹراو¿ٹ مچھلی اخروٹ کی سبز چھلکوں کے عرق کو نہر کے پانی میں ملانے کی وجہ سے دم گھٹ کر ہلاک ہوگئیں جو ٹراو¿ٹ یونٹس کے لیے پانی کا ذریعہ تھی۔اس لیے تمام سرکل انچارجز پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں اخروٹ چھیلنے والی مشین آپریٹرز کا پتہ لگانے کے لیے ایک وسیع سروے/تصدیق کریں اور انہیں مزید ضروری کارروائی کے لیے 27ستمبر2023اس دفتر میں حاضر ہونے کے لیے نوٹس بھیجیں۔ مزید برآں، آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ مشینوں کو فوری اثر سے اگلے احکامات تک روک دیا جائے۔














