کوہاٹ ( پاکستان)/ درہ آدم خیل کوہاٹ میں کوئلے کی کان کی حد بندی کے تنازع پر پیر کو دو قبائل کے درمیان خونریز تصادم میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق سنی خیل اور اخوروال کے درمیان کوئلے کی کانوں کی حد بندی کے تنازع پر تصادم ہوا جس کے نتیجے میں 50 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔کوہاٹ پولیس کے ترجمان کے مطابق دونوں قبائل، جو دونوں پہاڑی برادری کا حصہ ہیں، کے درمیان تنازعہ اس وقت پرتشدد شکل اختیار کر گیا جب وہ متنازع پہاڑی سلسلے میں آمنے سامنے ہو گئے۔اے آر وائی نیوز کے مطابق، زخمی افراد کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں مزید دو افراد بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ متحارب فریقین کے نام لے کر تھانہ درہ آدم خیل میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔واضح رہے کہ بلندی پہاڑی کی حد بندی پر سنی خیل اور اخوروال قوموں کے درمیان کافی عرصے سے تنازع چلا آ رہا تھا اور دونوں قبائل کے درمیان جرگہ ہو رہا تھا۔ تاہم دونوں جانب کے مقامی لوگوں کی ہٹ دھرمی کے باعث ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا اور دونوں جانب سے بھاری جانی نقصان ہوا۔پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو اپنے کنٹرول میں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں قبائل کے درمیان دیرینہ تنازعہ ہے۔ اور سیکورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں۔ اے آر وائی نیوز کی خبر کے مطابق، لاشوں اور زخمیوں کو پشاور کے ہسپتالوں میں پہنچا دیا گیا۔














