نئی دہلی،21مارچ/ خالصتانی بنیاد پرست امرت پال سنگھ کو پکڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دریں اثنا،میڈیا کو خصوصی سی سی ٹی وی فوٹیج ملی ہے۔ جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امرت پال بریجا گاڑی سے اتر کر اپنی پگڑی بدلتا ہے، اس کے بعد وہ پہلے نیلی اور بعد میں نارنجی رنگ کی پگڑی پہنتا ہے اور موٹر سائیکل پر بیٹھ کر بھاگ جاتا ہے۔ پولس پورے معاملے کی جانچ میں مصروف ہے، اس کے ساتھ اس کی مدد کرنے والوں کا بھی سراغ لگایا جا رہا ہے۔ معلومات کے مطابق امرت پال اپنی مرسڈیز کار میں جالندھر کے شاہکوٹ میں اترے اور شاہکوٹ میں وہ اپنے ایک ساتھی کی بریزا کار میں سوار ہوئے۔ امرت پال نے بریزا کار میں ہی کپڑے بدلے۔ اس نے اپنا چولہ اتارا اور پینٹ شرٹ پہنے وہاں سے دو موٹر سائیکلوں پر اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ بھاگ گیا۔امرت پال سنگھ کے معاملے میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے پنجاب پولیس کو پھٹکار لگائی۔ ہائی کورٹ نے پوچھا، "پنجاب پولیس میں 80 ہزار سپاہی، اب بھی امرت پال کیسے فرار ہے؟ آپ کے 80000 پولیس والے کیا کر رہے تھے؟ وہ کیسے بھاگے؟” عدالت نے کہا کہ یہ پنجاب پولیس کی انٹیلی جنس ناکامی ہے۔ سماعت کے دوران پنجاب پولیس نے عدالت کو بتایا کہ امرت پال سنگھ پر این ایس اے بھی لگا دیا گیا ہے اور اس نے اب تک امرت پال کے 120 سے زیادہ ساتھیوں کو گرفتار کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ہمیں پولیس کی کہانی پر یقین نہیں ہے۔ عدالت نے پنجاب پولیس سے سٹیٹس رپورٹ طلب کر لی۔پولیس ذرائع کے مطابق امرت پال کے مزید دو ساتھیوں کے خلاف نیشنل سیکورٹی ایکٹ (این ایس اے) کی درخواست کی گئی ہے۔ اب امرت پال کے دو ساتھیوں کلونت سنگھ اور گور اوجلا پر این ایس اے لگا دیا گیا ہے۔ ان دونوں کو گرفتار کر کے آسام کے ڈبرو گڑھ بھیج دیا گیا ہے۔بنیاد پرست مبلغ امرت پال سنگھ کے خلاف کریک ڈاو¿ن کے چند دن بعد، پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے منگل کو کہا کہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی گئی جو نفرت انگیز تقاریر کر رہے تھے اور غیر ملکی طاقتوں کے کہنے پر ریاست کے امن کو خراب کرنے کی بات کر رہے تھے۔ مان نے کہا کہ پنجاب کا امن، ہم آہنگی اور ملکی ترقی ان کی اولین ترجیحات ہیں اور کسی کو ریاست کی ہم آہنگی کی فضا خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔













