نئی دہلی ،14مارچ/طالبان حکومت کے نمائندوں نے وزارت خارجہ کی طرف سے انڈےن انسٹی ٹوےٹ آف منجمنٹ مےں شمولےت کی ہے۔ وزارت خارجہ نے اس سلسلے مےں طالبان حکومت کو دعوت نامہ دےا اور اس سے ےہ اشارہ مل رہا ہے کہ مودی سرکار طالبان کے ساتھ رابطہ رکھنا چاہتی ہے لےکن اس کو تسلےم کرنے سے گرےز کررہی ہے ۔ ےہ کورس کوزی کوٹ کے انسٹی ٹےوٹ مےں ہورہا ہے اور ا ن تمام ملکوں کے نمائندے شرکت کررہے ہےں جنہےں حکومت ہند ٹکنےکل اور اقتصادی پروگرام کے تحت مددکررہی ہے۔ اس پروگرام کے تحت مختلف ملکوں کے سفارت کاروں کو نہ صرف ہندستان کے اقتصادی امور پر جانکاری حاصل ہوگی بلکہ مسائل کے تئےں بھی اےک صاف نکتہ نظر ان کو ملے گا ۔ اس مےں 30سے زےادہ شرکاءشامل ہےں انکےں حکومت کے افسران کے علاوہ تاجر اور مختلف کمپنےوں کے اےکزےٹکٹو شامل ہےں۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ افغانستان کے کئی شخصےات مےں اس مےں شرکت کررہےں کےونکہ ےہ آن لائن کورس اور ہندستان آنے کی ضرورت نہےں پڑےگی ۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ طالبان کو مختلف امور کے بارے مےں جانکاری دےناچاہے۔ ان کو علاحدہ رکھنا ٹھےک نہےں ہے۔ ےہ بھی پتہ چلا کہ طالبان کے وزارت خارجہ کے افسران اس مےں شرکت کرےں گے۔ ہندستان نے جولائی 2022کو افغانستان مےں اپنی سفارتخانہ کھول دےا ہے لےکن ابھی تک کسی اعلی افسر کو تعےنات نہےں کےا گےا ۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سفارتخانہ اس لئے کھولا گےا تا کہ ہندستان کی طرف سے افغانستا ن کو جو مددی جا رہی ہے اس کا صحےح ڈھنگ سے استعمال ہو۔













