عدالت نے عرضی گزار کے وکلاءکی دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا دفعہ 370کے بعد کمیشن کے فیصلے پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی
سرینگر/13فروری/سسپریم کورٹ نے پیر کو جموں و کشمیر میں اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی حد بندی کو چیلنج کرنے والی عرضی کو خارج کر دیا۔تفصیلات کے مطابق، عدالت عظمیٰ کے ایک ڈویڑن بنچ نے جموں و کشمیر میں اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی حد بندی کے نوٹیفیکیشن کو چیلنج کرنے والی درخواست کو خارج کر دیا۔6 مارچ 2020 کو مرکز نے سپریم کورٹ کی سابق جج جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں ایک تین پینل تشکیل دیا تھا جس کے دو دیگر ممبران چیف الیکشن کمشنر اور جموں و کشمیر کے ریاستی الیکشن کمشنر تھے۔اسے 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر اور جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ، 2019 (34 کا 2019) کے پارٹ V کی دفعات کے مطابق جموں و کشمیر میں اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی حد بندی کا کام سونپا گیا تھا۔ اور حد بندی ایکٹ، 2002 (2002 کا 33) کی دفعات کے تحت کمیشن نے 5 مئی 2022 کو اپنے حتمی فیصلے پر مہر ثبت کرتے ہوئے حد بندی کا اعلان کرتے ہوئے چھ اضافی نشستیں جموں اور ایک کشمیر کو مختص کیںجن میں اس نے شیڈول ٹرائب کے لیے بھی نو سیٹیں مخصوص کی ہیں- جموں ریجن میں چھ اور کشمیر میں تین نشستیں ہیں اس کے علاوہ پاک زیر انتظام جموں کشمیر کےلئے بھی اسمبلی نشستوں کومختص رکھنے کا اعلان کیا گیاتھا۔













