کشیدگی کے بڑھتے خطرات کے درمیان روس کی اسٹریٹجک ڈیٹرنس فورسز کی مشقوں میں شرکت کی
ماسکو، 27 اکتوبر(یو این آئی) روسی صدر ولادیمیر پوتین نے 26 اکتوبر کو روس کی اسٹریٹجک ڈیٹرنس فورسز کی مشقوں میں شرکت کی جو خطرات کا جواب دینے کیلئے ذمہ دار فورس سمجھی جاتی اور یہ فورس ہی ایٹمی جنگ کی صورت میں متحرک ہوتی ہے ۔یہ اطلاع کریملن نے دی ہے ۔ کریملن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ولادیمیر پوتین کی قیادت میں زمینی، سمندری اور فضائی اسٹریٹجک ڈیٹرنس فورسز نے مشقیں کیں اور بیلسٹک اور کروز میزائلوں کا عملی تجربہ کیا۔خاص طور پر روس کے مشرق بعید میں جزیرہ نما کمچٹکا پر ایک بیلسٹک میزائل اور دوسرا آرکٹک میں بحیرہ بیرنٹس کے پانیوں سے داغا گیا اور مشقوں میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے Tu-95 طیارے بھی شامل تھے ۔العربیہ میں شائع رپورٹ کے مطابق کریملن نے مزید کہا کہ ”تزویراتی ڈیٹرنس مشق کے دوران جن مشنوں کی نشاندہی کی گئی تھی ان پر مکمل عمل درآمد کیا گیا اور تمام میزائلوں نے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔”روس کی اسٹریٹجک فورسز کو جوہری جنگ کی صورت میں خطرات کا جواب دینے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے اور وہ ICBMs، طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹریٹجک بمبار طیاروں، آبدوزوں، بحری جہازوں اور بحری ہوا بازی سے لیس ہیں۔ یہ مشقیں روس کے یوکرین پر حملے کیدوران ہو رہی ہیں اور اس جنگ کی وجہ سے روس مغرب کے ساتھ کشیدگی بڑھا رہا ہے ۔روسی حکام نے طویل عرصے سے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے ملک کو کوئی وجودی خطرہ ہوا تو وہ جوہری ہتھیار استعمال کریں گے ۔دریں اثنا ماسکو میں وزارت دفاع کے مطابق روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے بدھ کے روز اپنے چینی ہم منصب وی فینگے کے ساتھ ایک ویڈیو کال میں یہ الزام دہرایا کہ یوکرین روس کو ڈرٹی بم سے اکسانے کا منصوبہ بنا رہا ہے ۔وزارت دفاع نے کہا کہ ”یوکرین کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور جنرل سرگئی شوئیگو نے اپنے چینی ہم منصب سے یوکرین کی جانب سے ڈرٹی بم کے استعمال سے ممکنہ اشتعال انگیزی پر تشویش کا اظہار کیا۔”وزارت نے ایک بیان میں یہ بھی اعلان کیا کہ شوئیگو نے اپنے ہندوستانی ہم منصب راج ناتھ سنگھ کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت کے دوران اسی ”تشویش” کا اظہار کیا تھا۔














