نئی دلی/مختلف وزارتوں اورمحکموں میں خالی آسامیوں کو پُر کرنا ایک مسلسل عمل ہے۔ توقع ہے کہ روزگار میلہ مزید روزگار اور خود روزگار پیدا کرنے میں ایک محرک کے طور پر کام کرے گا اور نوجوانوں کو فائدہ مند خدمات کے مواقع فراہم کرے گا۔ یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) سائنس اور ٹیکنالوجی نے دی۔ پی ایم او، پرسنل، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب دیا۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، روزگار میلے کے ایک حصے کے طور پر، خالی آسامیوں کو مشن موڈ میں پُر کیا جا رہا ہے۔ روزگار میلہ کی تقریبات پورے ملک میں منعقد کی جا رہی ہیں اور نئے تقرریوں کو مختلف مرکزی وزارتوں/محکموں/مرکزی پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز /خود مختار اداروں بشمول صحت اور تعلیم کے اداروں، پبلک سیکٹر کے بینکوں وغیرہ میں شامل کیا گیا ہے۔مرکزی وزارتیں/ محکمے/ سنٹرل پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز خود مختار ادارے بشمول صحت اور تعلیم کے ادارے، پبلک سیکٹر کے بینک وغیرہ، براہ راست یا بھرتی ایجنسیوں جیسے کہ اسٹاف سلیکشن کمیشن، یونین پبلک سروس کمیشن، ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ کے ذریعے بھرتی کرتے ہیں۔ ڈی او پی ٹی کے وزیر نے کہا کہ اسٹاف سلیکشن کمیشن (ایس ایس سی) نے سال 2022-23 کے دوران 1,25,514 آسامیوں کو مطلع کیا تھا اور سال 2022-23 اور 2023-24 میں 10.07.2023تک ایس ایس سیکی جانب سے کی گئی سفارشات بالترتیب 73,721 اور 45,77 ہیں۔ یونین پبلک سروس کمیشن نے سال 2022-23 کے لیے 6,697 آسامیوں کو مطلع کیا ہے اور 5,777 سفارشات کی ہیں۔













