بنگلورو۔ْبھارتی خلائی تحقیقی ادارے (اسرو) کے چیئرمین ڈاکٹر وی ناروائن نے کہا ہے کہ ایڈروجن مستقبل میں بھارت کے خلائی مشنز، صاف توانائی اور نقل و حمل کے شعبے میں بنیادی کردار ادا کرے گی۔ وہ بنگلور میں منعقدہ ایک قومی ورکشاپ میں خطاب کر رہے تھے جس کا موضوع ہائیڈروجن فیول ٹیکنالوجیز اور ان کے استعمال کے امکانات تھے۔ڈاکٹر ناروائن نے کہا کہ دنیا آج توانائی کی بڑھتی طلب اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے جیسے دو بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ اس صورتحال میں ایڈروجن ایک ایسی توانائی ہے جو استعمال کے وقت تقریباً کاربن فری ہے اور پائیدار ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔بھارت نے حالیہ برسوں میں خلائی شعبے میں مائع ایڈروجن اور آکسیجن پر مبنی کرایوجینک انجن کے استعمال میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جنوری میں جی ایس ایل وی ایم کے۔تھری راکٹ کا کامیاب لانچ اسی ٹیکنالوجی کا ثبوت ہے۔ ماضی میں یہ ٹیکنالوجی بھارت کے لیے دستیاب نہیں تھی، تاہم اب اسرو نے اسے خود تیار کر لیا ہے۔اس کے علاوہ ایڈروجن فیول سیل کے عملی استعمال کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ گزشتہ سال اسرو اور ٹاٹا موٹرز نے ہائیڈروجن فیول بس تیار کی جس کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔ جون 2025 میں پانچ ہائیڈروجن بسیں تجارتی سطح پر سڑکوں پر آچکی ہیں۔ بی ایچ ای ایل اور این ٹی پی سی جیسی سرکاری کمپنیاں بھی ہائیڈروجن سسٹمز اور گیس ٹربائن انجنز پر تحقیق کر رہی ہیں۔ڈاکٹر ناروائن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہائیڈروجن کے بڑھتے استعمال کے ساتھ حفاظتی خطرات بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق فی الحال استعمال ہونے والے ہائیڈروجن سینسرز کے ردعمل کا وقت تین سے چار سیکنڈ ہے، جبکہ اسے ملی سیکنڈ کی سطح تک لانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی حادثے کو بروقت روکا جا سکے۔بھارت نے کرایوجینک پروپولشن سسٹمز میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں جن میں تین انجنوں کا ایک ساتھ استعمال، انتہائی کم وقت میں انجن کی تیاری اور ناسا۔اسرو کے مشترکہ منصوبے نِسار سیٹلائٹ کی لانچنگ شامل ہے۔یہ پیش رفت بھارت کے قومی گرین ہائیڈروجن مشن کے عزم کو بھی نمایاں کرتی ہے جس کا مقصد ملک کو ہائیڈروجن کی پیداوار، استعمال اور برآمد میں عالمی مرکز بنانا ہے۔ماہرین کے مطابق ہائیڈروجن ٹیکنالوجی بھارت کو نہ صرف خلائی تحقیقات میں مزید مضبوط کرے گی بلکہ ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں بھی ایک صاف اور پائیدار مستقبل فراہم کرے گی۔














