نئی دہلی۔ حکومت لاجسٹک رکاوٹوں کو کم کرنے اور ہندوستانی زرعی اور پروسیس شدہ خوراکی مصنوعات کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ بات دہلی میں زرعی و پروسیس شدہ خوراکی اشیاء کی اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے( کے زیر اہتمام ایک اعلیٰ سطحی چنتن شیویر سے خطاب کرتے ہوئے شعبہ تجارت کے سیکرٹری جناب سنیل برتھوال نے کہی۔جناب برتھوال نے کہا کہ ’’علیمی اور تحقیقاتی اداروں کو کثیر شعبہ جاتی مشاورت کا حصہ ہونا چاہیے تاکہ تحقیق و ترقی زرعی برآمدات میں جدت اور پائیداری کے لیے ایک بڑا مرکز ہو۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ زرعی پیداوار اور پیداواری دونوں اس وقت کی ضرورت ہیں۔ انہوں نے وزارت کی اس عزم کی تصدیق کی کہ سیشنز کے دوران زیر بحث خیالات اور حکمت عملیوں پر مزید غور کیا جائے گا۔اس مشاورتی مکالمے میں مرکزی حکومت کے سینئر حکام، مرکزی وزارتوں، ریاستی حکومتوں کے نمائندوں، پالیسی سازوں، زرعی تجارت اور پروسیسڈ فوڈ شعبے کے صنعتی رہنماؤں کو اکٹھا کیا گیا تاکہ ہندوستان سے زرعی اور پروسیس شدہ خوراکی مصنوعات کی برآمدات کو بڑھانے کی حکمت عملیوں پر غور کیا جائے۔چنتن شیویر کے افتتاحی اجلاس کی مشترکہ صدارت شعبہ تجارت کے سیکریٹری جناب سنیل برتھوال اور وزارت خوراک کی پروسیسنگ صنعت (ایم او ایف پی آئی) کے سیکرٹری جناب سبریتا گپتا نے کی۔ اس اجلاس میں شعبہ تجارت کے خصوصی سیکرٹری جناب راجیش اگروال، شعبہ مویشی پروری اور ڈیری کی ایڈیشنل سیکرٹری، محترمہ ورشا جوشی، اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کے دیگر سینئر افسران، پالیسی سازوں اور صنعتی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔اپنے افتتاحی کلمات میں، وزارت خوراک کی پروسیسنگ صنعت کے سیکرٹری جناب سبرتا گپتا نے پائیدار برآمدی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور قدر افزائی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق بنیادی ڈھانچے، سینیٹری اور فائیٹو سینیٹری معیارات جو عالمی پیمانے کے ہوں، ٹیرف پلانز اور مرکزی حکومت، ریاستی حکومت، مختلف محکموں اور صنعتی شراکت داروں کے درمیان زیادہ ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پروسیسڈ فوڈز کی برآمدات کے لیے کلیدی ممکنہ مصنوعات اور شعبوں جیسے کہ الکحل مشروبات، نیوٹراسیوٹیکلز یعنی تغذیے کی دوائیں اور قدر افزا مصنوعات کی نشاندہی کی۔وزارت تجارت و صنعت کے اسپیشل سیکرٹری جناب راجیش اگروال نے مرکزی حکومت، ریاستی حکومت، صنعتی شراکت داروں اور کسان برادریوں کے درمیان ہم آہنگی کے کردار پر زور دیا تاکہ ہندوستان کے زرعی برآمدی امکانات کو پورا کیا جا سکے۔ انہوں نے نئی زراعت، پروسیس شدہ خوراک اور قدر افزا مصنوعات کو نئے جغرافیائی علاقوں تک لے جانے کے لیے مختلف شراکت داروں کے درمیان زیادہ ہم آہنگی کے نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیا۔یہ چنتن شیویر وزارت تجارت و صنعت اور اے پی ای ڈی اے کے زیر اہتمام وانیجیے بھون میں مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں، صنعتی رہنماؤں اور متعلقہ وزارتوں کے 70 سے زائدشراکت داروں کے ساتھ پہلا، ایک منفرد تعاون پر مبنی مکالمہ ہے۔ ملک بھر سے 14 ریاستوں یعنی آندھرا پردیش، بہار، چھتیس گڑھ، گجرات، ہریانہ، پنجاب، مہاراشٹرا، مدھیہ پردیش، راجستھان، تلنگانہ، تمل ناڈو، اتراکھنڈ، اتر پردیش اور مغربی بنگال نے افتتاحی سیشن میں شرکت کی۔ زرعی اور پروسیسڈ فوڈ سیکٹرز کے صنعتی رہنماؤں کی نمائندگی ایل ٹی فوڈز، کے آر بی ایل، امول، آرگینک انڈیا، آئی ٹی سی، میٹزا، سوگنا فوڈز، کئے بی، ٹی پی سی آئی، ایلانسنز، فیئر ایکسپورٹس، ایچ ایم اے ایکسپورٹس وغیرہ نے کی۔














