اعلیحدگی پسند سیاست ختم ہوئی، ملٹنسی میں کمی اور تشدد اب نہیں ہوتا۔ سی ایم
وزیر اعلیٰ کے بیان پر حزب اختلاف کی جماعتوں کا شدید ردعمل
سرینگر/جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے دفعہ 370کی منسوخی کو حالات بدلنے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2019کے بعد سے جموں کشمیر میں حالات کافی بہتر ہوئے ہیں اور ملٹنسی اور علیٰحدگی پسند سیاست بھی ختم ہوچکی ہے ۔ وزیر اعلیٰ کے اس بیان پر حزب اختلاف کی جماعتوںنے انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اس کی سخت نکتہ چینی کی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے کشمیر میں آرٹیکل 370 کے بعد منظر نامے میں تبدیلی آنے کے بیان پر حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وادی میں خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد حالات کافی حد تک بدل گئے ہیں، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ علیحدگی پسند سیاست ختم ہو گئی ہے اور میر واعظ عمر فاروق کو سی آر پی ایف سیکورٹی کور ملنے کا حوالہ دیتے ہوئے بدلتے ہوئے منظر نامے کی ایک مثال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر علیحدگی پسند سیاست کے خاتمے سے بہتری آئی ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔انہوںنے یہ بھی کہا کہ سال 2029کے بعد سے ملٹنسی میں بھی نمایاں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ تاہم ان کے تبصروں کو اپوزیشن رہنماو ¿ں کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد لون نے عمر کے ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ فلم ابھی شروع ہونا ہے۔ بہت کچھ کے لیے خود کو تیار کریں۔انہوں نے وزیر اعلیٰ پر مزید الزام لگایا کہ انہوں نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کی توثیق کرتے ہوئے اسے کم کرنے کی کوشش کی اور اسے ”صرف ان لوگوں کے لئے ٹریلر قرار دیا جنہوں نے انہیں ووٹ دیا“۔اسی دوران پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے بھی عمر عبداللہ پر طنز کرتے ہوئے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر طنزیہ انداز میں پوسٹ کیا”مضحکہ خیز بات ہے کہ انتخابات سے پہلے، اس نے اصرار کیا کہ کچھ بھی نہیں بدلا۔ اب وہ کہتے ہیں کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں ’تبدیلی آئی ہے“۔ پارٹی نے وزیر اعلیٰ کے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ قبروں کی خاموشی کو امن کے لیے غلط نہیں سمجھنا چاہیے۔ کیوں لوگ اب بھی یو اے پی اے کے تحت جیلوں میں بند ہیں یا فرضی عسکریت پسندوں کے مقدمات میں ملوث ہیں؟ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ جموں کشمیر میںگزشتہ پانچ برسوں کے دورن بدل گئے ہیں اور زمینی صورتحال 2019سے مختلف ہے ۔












