کورونا اور ایف آئی آئی کے موقف کا مارکیٹ پر اثر پڑے گا
ممبئی/می منڈی کے ملے جلے رجحان کے درمیان اونچی قیمتوں پر منافع وصولی دباو میں گزشتہ ہفتے اسٹاک مارکیٹ میں نصف فیصد کی گراوٹ آئی۔اگلے ہفتے کورونا کے نئے ویرینٹ جی این-1 کے پھیلا¶ اور غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ایف آئی آئی) کی سرمایہ کاری کے بہاو، خام تیل کی قیمتوں اور ڈالر انڈیکس کے رجحان کا اثر رہے گا۔گزشتہ ہفتے بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس ہفتے کے آخر میں 376.79 پوائنٹس یعنی 0.53 فیصد گر کر 71106.96 پوائنٹس پر آگیا۔ اسی طرح نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 107.25 پوائنٹس یعنی 0.5 فیصد گر کر 21349.40 پوائنٹس پر آگیا۔زیرجائزہ ہفتے میں بڑی کمپنیوں کی طرح درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں کے حصص میں بھی فروخت کا دبا¶ رہا۔ اس کی وجہ سے ہفتے کے آخر میں بی ایس ای کا مڈ کیپ 315.67 پوائنٹس یعنی 0.9 فیصد گر کر 35882.68 پوائنٹس اور اسمال کیپ 81.46 پوائنٹس یعنی 0.2 فیصد گر کر 42001.75 پر پہنچ گیا۔ اگلے ہفتے پیر کو کرسمس کی تعطیل کی وجہ سے سینسیکس اور نفٹی میں صرف چار دن ہی کاروبار ہوگا۔تجزیہ کاروں کے مطابق ملک میں کورونا جی این 1 کے نئے ویرینٹ سے انفیکشن کے کیس تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 752 متاثرہ افراد کی شناخت ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ اس انفیکشن کی وجہ سے ملک میں چار لوگوں کی موت ہو چکی ہے ۔ سرمایہ کار اس سے خوفزدہ ہیں۔ اس کا اثر اگلے ہفتے مارکیٹ پر دیکھا جا سکتا ہے ۔اس کے علاوہ، مقامی مارکیٹ ایف آئی آئی کی سرمایہ کاری کے بہا¶، بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتیں اور اگلے ہفتے ڈالر انڈیکس کے رجحان سے متاثر ہوگی۔ ایف آئی آئی نے اس سال اگست، ستمبر اور اکتوبر کے مسلسل تین مہینوں میں بھاری فروخت کے بعد نومبر میں 5,795.05 کروڑ روپے کی خالص خریداری کی ہے ۔ اس کے علاوہ دسمبر میں اب تک مارکیٹ میں ان کی خالص سرمایہ کاری 23,310.82 کروڑ روپے رہی ہے ۔ اگر ایف آئی آئی کا رویہ مثبت رہا تو مارکیٹ میں اضافہ جاری رہ سکتا ہے ۔










