فلسطینی نے اپنی گاڑی فوجیوں پر چڑھانے کی کوشش کی تھی، اسرائیلی فوج کا الزام
یروشلم: ۵۲ ستمبر (ایجنسیز ) مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں ایک فلسطینی ڈرائیور کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔ ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس فلسطینی نے اپنی گاڑی فوجیوں پر چڑھانے کی کوشش کی تھی جبکہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک ٹریفک حادثہ تھا۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ فوجیوں اور پولیس نے ایک گاڑی پر اس وقت فائرنگ کی جب اس گاڑی کے ڈرائیور نے شمالی مغربی کنارے میں نابلس کے باہر گشت کے دوران ان کو گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی، تاہم اسرائیلی فورسز نے حملہ ا?ور کا ارادہ ناکام بنادیا۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے ڈرائیور کی شناخت 36 سالہ محمد علی حسین عواد کے نام سے کی ہے جو مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کے قریب مغربی کنارے کے قصبے بیت اجزا سے تعلق رکھتا تھا۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ ’اسرائیلی پولیس نے جان بوجھ کر عواد کو گولی ماری ہے، ان کا مقصد اسے قتل کرنا تھا کیونکہ اس کی گاڑی ٹریفک حادثے میں پولیس کی ایک گاڑی سے ٹکرا گئی تھی‘۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے اس واقعے کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے ایک نہتے فلسطینی کا قتل قرار دیا جو کسی قسم کا کوئی خطرہ پیدا نہیں کر رہا تھا۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے مغربی کنارے پر 1967 کی 6 روزہ جنگ کے بعد سے قبضہ کر رکھا ہے، حالیہ برسوں میں اس علاقے میں اسرائیلی فوجی گاڑیوں اور چوکیوں پر فلسطینیوں کی جانب سے مبینہ حملوں کے ردعمل میں اسرائیلی فوج کو فلسطینیوں کے خلاف بار بار طاقت کے جان لیوا استعمال پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔













